۱۳۸۶ اسفند ۲۳, پنجشنبه

بلوچستان، پی پی کا اکثریت کا دعویٰ



پاکستان پیپلز پارٹی نے آج حکومت سازی کے لیے جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ قائد اعظم سمیت پچپن اراکین کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے ۔ جبکہ آج ظہرانےمیں تیس کے لگ بھگ نومنتخب اراکین موجود تھے۔
بلوچستان میں حکومت کون بنائے گا؟

پیپلز پارٹی کی حمایت کرنے والے آزاد اراکین نے مسلم لیگ کے کچھ اراکین کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی کل تعداد پینسٹھ ہے اور پیپلز پارٹی نے سابق حکومت میں شامل مسلم لیگ قائد اعظم کے دس، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سات اور جمعیت علماء اسلام کے دس ارکان سمیت سات آزاد، تین عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی پارلیمنٹیرینز اور جمعیت علماء اسلام کے نظریاتی دھڑے کے ایک رکن سمیت پچپن اراکین کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین کی تعداد آٹھ ہے۔
آج کوئٹہ کے سراوان ہاؤس میں ایک ظہرانے کے دوران تیس کے لگ بھگ اراکین موجود تھے جن میں سابقہ حکومت کے وزراء جیسے وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی، وزیر خزانہ سید احسان شاہ، وزیر اطلاعات مطیع اللہ آغا، اصغر رند، حبیب الرحمان محمد حسنی اور سابق ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی شامل تھے۔
گزشتہ رات قاف لیگ کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلی جام محمد یوسف نے بھی پیپلز پارٹی کے وزارت اعلٰی کے امیدوار نواب اسلم رئیسانی سے ملاقات کی تھی لیکن آج ظہرانے میں انھوں نے شرکت نہیں کی ہے۔
نواب اسلم رئیسانی سے مسلم لیگ کے اراکین کی حمایت اور ملاقاتوں کے حوالے سے جب پوچھاگیا تو انہوں نےکہا کہ قاف لیگ کوئی جماعت نہیں ہے اور جام یوسف سے ان کی ملاقات حکومت سازی کے حوالے سے نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کی تھی۔
سابق وزراء خصوصاً وزیر داخلہ کی حمایت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نواب رئیسانی نے کہا کہ وزیر داخلہ اپنے دور میں مجبور تھے اور ان سے اسمبلی میں سب کچھ کہلوایا جاتا تھا وہ خود سےکچھ نہیں بولتے تھے۔
انھوں نےکہا کہ اب اختیار ان کے پاس ہوگا اور وہ اپنی پالیسیاں نافذ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیحات میں صوبے کو درپیش مالی مشکلات کو حل کرنا، امن و امان قائم کرنا، لاپتہ اور گرفتار افراد کو منظر عام پر لانے کے علاوہ پہاڑوں پر موجود لوگوں سے بات چیت کرنا ہے تاکہ بلوچستان کے تمام مسائل حل کیے جا سکیں۔
اس حوالے سے جب سات آزاد اراکین کی قیادت کرنے والے رکن صوبائی اسمبلی اسلم بزنجو سے پوچھا گیا کہ مسلم لیگ کے اراکین کی شمولیت پر کیا انھیں کچھ اعتراض ہے ،تو انھوں نے کہا کہ کچھ اراکین پر انھیں اعتراض ہے اور اس بارے میں انھوں نے پیپلز پارٹی کے قائدین سے بات کی ہے لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ، بی این پی (عوامی) اور جمعیت کے تمام اراکین پر انھیں اعتراض نہیں ہے کیونکہ پھر تو ان کی حکومت نہیں بن سکتی۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نواب اسلم رئیسانی اور آزاد اراکین کے سربراہ سردار اسلم بزنجو نے کچھ روز پہلے کہا تھا کہ وہ بلوچستان کے آپریشن میں ملوث لوگوں سے بات چیت نہیں کریں گے۔ لیکن اب وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی سمیت دیگر اراکین کی حمایت قبول کر لی گئی ہے۔

bbc

هیچ نظری موجود نیست: